21

ملک بھر میں قائداعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

برصغیر کے مسلمانوں کو پاکستان کی صورت میں ایک آزاد وطن دینے والے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 146 ویں سالگرہ ملک بھر میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔

قائد اعظم کے یوم پیدائش کی مناسبت سے ملک بھر میں  مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔

تقریبات میں قائد اعظم کے رہنما اصولوں پر روشنی ڈالی گئی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزارِ قائد پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔  اس حوالے سے قائد اعظم کے مزار پر گارڈز تبدیلی کی پروقار تقریب بھی ہوئی، جس میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کیڈٹس نے مزارِ قائد کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عمر نسیم تھے جنہوں نے گارڈز کی تبدیلی کا معائنہ کیا، اعزازی گارڈز نے مہمان خصوصی میجر جنرل عمر نسیم کو جنرل سلامی پیش کی اور انہوں نے مہمانوں کی کتاب پر تاثرات بھی درج کیے۔

تقریب میں پاک فضائیہ کے کیڈٹس گارڈز کے فرائض پاکستان آرمی کے کیڈٹس کے حوالے کیے گئے۔

قائد اعظم کے مزار پر گورنرسندھ، وزیراعلیٰ اور کمشنر کراچی نے بھی حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ گورنر و وزیراعلیٰ سندھ نے ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے خصوصی دعا بھی مانگیں۔ اس کے علاوہ تینوں افواج کے نمائندے، ڈی جی رینجرز بھی مزار قائد پر حاضر ہوئے۔

پچیس دسمبر 1876 کو کراچی کے وزیر مینشن میں محمد علی جناح نے آنکھ کھولی تو کون جانتا تھا کہ یہ بچہ عظیم رہنما بن کر برصغیر کے مسلمانوں کی کشتی پار لگانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرسۃ الاسلام سے حاصل کی جبکہ میٹرک کا امتحان جامعہ بمبئی (موجود ممبئی) سے پاس کیا بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کیلئے لندن روانہ ہو گئے۔

سنہ 1895 میں انہوں نے لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کر لی اور بمبئی واپس آ کر باقاعدہ طور پر وکالت کا آغاز کیا۔

صرف ایک برس بعد سنہ 1896 میں محمد علی جناح نے سیاسی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے انڈین نیشنل کانگریس میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی۔

 لیکن کچھ عرصہ بعد ہی انہیں احساس ہوا کہ کانگریس صرف ہندوؤں کی نمائندہ جماعت ہے۔

  جس کے بعد سنہ 1913 میں قائد اعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور علیحدہ وطن کی تحریک کا آغاز کیا۔

آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہونے کے بعد قائد اعظم نے اپنے شب و روز مسلمانوں کے سیاسی شعور کی بیداری کیلئے وقف کر دئیے۔

بالآخر ان کی جدوجہد رنگ لائی اور 14 اگست 1947 کو برصغیر کے مسلمانوں کا علیحدہ وطن کا خواب پورا ہوا جس کا نام “پاکستان ” رکھا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں