14

مسائل کے حل کیلئے مزید وقت درکار ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جب گیس سستی تھی پی ٹی آئی نے نرخ کم نہیں کئے، سرکلر ڈیٹ اژدھا بن چکا، مسائل کا پہاڑ 8 ماہ میں ختم نہیں ہو سکتا، حکومت کو مزید وقت درکار ہے۔

شمسی توانائی کےحوالےسے منعقدہ کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہنا تھا کہ جب گیس سستی تھی تب پی ٹی آئی حکومت نے نہیں خریدی، روس، یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، بہاولپور میں جب پہلے سولر پارک کی بنیاد رکھی تھی تب بڑی تنقید کی گئی، قائداعظم سولرپارک کوانتہائی شفاف طریقے سےلگایا گیا، قائداعظم سولر پارک کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے، نوازشریف دورمیں ترقی ٹیم ورک کا نتیجہ تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ قائد اعظم سولر پارک پر ایک اینکر نے کہا کہ صرف 8 گھنٹے بجلی پیدا ہو گی، سورج آٹھ گھنٹے ہی چمکتا ہے، تیل ڈالرمیں امپورٹ کرتے ہیں، مہنگی بجلی کی وجہ سے بل زیادہ ہو رہا ہے، مہنگی بجلی نے ہماری معیشت کے پرخچے اڑا دیئے ہیں، سولر پاور کے ذریعے متبادل انرجی کا بندوبست کریں گے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کریں گے، شمسی توانائی کے ذریعے متبادل انرجی کا بندوبست کریں گے، شمسی توانائی سے سستی بجلی پیدا ہوگی، ملک میں ایک، ایک ڈالر اس وقت قیمتی ہے، شمسی توانائی سے اگر وفاق کے ادارے چلیں گے تو بڑی قومی خدمت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت ملک میں معاشی استحکام کیلئے کوشاں ہے، مہنگی بجلی نے معیشت کے پرخچے اڑا دئیے، آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر گزارہ نہیں، 27 ارب تیل، گیس کی امپورٹ پر چلے جاتے ہیں، ترقی اورخوشحالی کہاں سےآئے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایک لاڈلے کو تیار کیا جا رہا تھا اس لیے مسلم لیگ کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، طوفان بدتمیز تھا، ہمارے اچھے کاموں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، انہوں نے کہا کہ کہاں گئی پنجاب کی 56 کمپنیوں کا کیس؟ ثاقب نثار پنجاب کی 56 کمپنیوں کے پیچھے پڑ گئے تھے، 5 سال ہو گئے ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پروپیگنڈا کر کے پاکستان کی برق رفتار ترقی کو روکا گیا، انشا اللہ چیزوں کو ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا، مہنگائی پرعوام صبر و تحمل کا بہترین مظاہرہ کر رہے ہیں، ہمیں فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جس سے زراعت کی ترقی ہو۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام مہنگائی میں پس رہے ہیں، اتحادی حکومت کی خواہش ہے عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے، انہوں نے کہا کہ اگر ہم جائز سبسڈی بھی دینا چاہتے ہیں تو آئی ایم ایف جانا پڑتا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں ہے، آئی ایم ایف کے پروگرام پر ہم نے عملدرآمد کرنا ہے، جون تک آئی ایم ایف پروگرام کو ہم نے مکمل کرنا ہے،

انہوں نے کہا کہ آج حالات بدلے ہیں، اتحادی حکومت معاشی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے، افسران نیشنل ایمرجنسی سمجھ کر کام کریں، بدقسمتی سے گزشتہ ادوار میں احتساب کے نام پر مخالفین سے انتقام لیا گیا، ایسی کارروائیوں سے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کو نقصان پہنچا، افسروں کی نیب میں درجنوں پیشیاں ہوتی تھیں، نیب، نیازی گٹھ جوڑ نے بدترین انتقام لیا، فاشزم سے سرکاری ملازمین کی بھی بہت دل شکنی ہوئی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شمسی توانائی سے کسانوں کو سستی بجلی ملے گی تو اس سے بڑی قومی خدمت کیا ہو گی، کمرشل سینٹر، سکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کریں گے، مجھے پوری امید ہے ہم ان چیلنجز سے نمٹیں گے، بہت وقت ضائع اور پلوں سے بہت پانی بہہ گیا، عہد کرنا ہوگا، ابھی بھی وقت ہے، ہم اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتے ہیں، ماضی کی تلخیوں، ظلم کو محنت کر کے خوشیوں میں بدلیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں