16

پتھر میں کیڑے کو غذا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سبق آموز واقعہ

جب حضرت موسٰی کلیم اللہ خداوندمتعال کی طرف سے حکم دیئے گئے کہ جائیں فرعون کو خدا کی عبادت و پرستش کی دعوت دیں، تو موسٰی علیہ السلام اس کام کو بڑا خطرناک کام سمجھے ھوئے تھے،
انھیں اپنے بچوں اور اھل خانہ کی فکر لگی ھوئی تھی، خدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:
(پروردگارا! میری بیوی بچوں کی کون دیکھ بھال کرے گا.؟)
تو خدا کی ذات کی طرف سے جواب آیا اے موسٰی اپنا عصا پتھر پر مارو.
موسٰی علیہ السلام نے اپنا عصا پتھر پر مارا اور پتھر دو ٹکڑے ھوگیا. اس پتھر کے اندر سے ایک اور پتھر نکلا، آپ نے اس کےاوپر بھی عصا مارا، اس کے اندر سے ایک اور پتھر نمایاں ھوا، آپ نے اس کے اوپر بھی اپنا عصا مارا تو اس تیسرے پتھر کے سینے سے ایک چھوٹا سا کیڑا نکلا جس کے منہ میں غذا کا چھلکا تھا جسے وہ کھا رہا تھا.
آپ کے کانوں سے حجاب ہٹائے گئے تو آپ نے سنا کہ وہ کیڑا کہہ رہاہے:
“سبحان من يرانى ويسمع كلامى ويعرف مكانى ويذكرنى ولاينسانى.”
ترجمہ:
پاک و پاکیزہ ھے وہ ذات جو مجھے دیکھ رہی ھے، اور میری بات کو سن رہی ھے، اور میرے ٹھکانے کو بھی جانتی ھے، اور مجھے یاد بھی رکھے ھوئے ھے، اور مجھے بھلاتی نہیں ھے.

اس طریقے سے موسٰی علیہ السلام جان گئے کہ خداوند عالم اپنی تمام مخلوق کی رزق و روزی کا ضامن ھے، اسی کے بھروسے پر سب کام ھو رہے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں