Imran Khan Virtual Address 81

پاکستان پر کرپٹ اور قاتلوں کو مسلط کرنا ملک کے مستقبل کی توہین ہے، عمران خان

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکا، یورپ کےخلاف نہیں ہوں۔ میرے ڈونلڈ ٹرمپ سے اچھے تعلقات تھے۔ ہم دوستی کرنا چاہتے ہیں لیکن غلامی نامنظور ہے۔امریکیوں کو اپنی بات منوانے کیلیے حکم دینے کی عادت ہے۔ ماضی میں ہمارے ایک سربراہ نے دھمکی کے بعد ملک کو جنگ میں جھونک دیا تھا۔ اس دہشتگردی کی جنگ سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ امریکا سے دھمکی آئی کہ ہمارے ساتھ شامل ہو اور ہم لیٹ گئے. مشرف امریکی دباؤ برداشت نہیں کرسکا، جنگ میں شامل ہوئے، ہم گرتے گئے اور انکے مطالبات بڑھتے گئے۔

پی ٹی آئی سربراہ نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی اپنے ملک کے مفاد میں ہونی چاہیے۔ میں چاہتا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی پاکستانیوں کیلیے ہونی چاہیے، اپنے ملک کو کسی کی خارجہ پالیسی کیلئے قربان نہیں کرنا چاہیے۔ چین ابھرتی ہوئی طاقت، ہمارا پڑوسی اور اچھا دوست ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ چین سے ہمارے اچھے تعلقات ہوں۔ بہت پہلے سے کوشش تھی کی روس سے ہمارے تعلقات اچھے ہوں جس میں بہتری پر ہمارا بڑا فائدہ ہے۔ ہم نے روس سے گیس اور گندم کم قیمت پر لینا تھی جس سے عوام کو فائدہ ہوتا۔ روس ہمیں گیس اور گندم 30 فیصد کم قیمت دینے پر راضی تھا۔ آج ہندوستان روس سے مذاکرات کرکے سستا تیل منگوا رہا ہے حالانکہ بھارت امریکا کا اسٹریٹیجک اتحادی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی سازش کے خلاف اوورسیز پاکستانیوں کو بھرپور احتجاج کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں