142

بادام اور اس کی تاریخ

بادام کا تعارف
بادام وہ مشہور میوہ ہے جس سے دنیا کا بچہ بچہ واقف ہے۔ اس میں قادر مطلق نے بیشمار فوائد رکھے ہیں مگر ہم اپنی کم علمی کی وجہ سے ان سے بہت کم مستفید ہوتے ہیں۔ بادام سے بیشمار لذیذ مرکبات تیارہوتے ہیں جو اپنی اپنی جگہ بہت سے فوائد اپنے اندر پنہاں رکھتے ہیں۔

بادام کے مختلف نام
بادام ——– اردو نام
بدام ———گجراتی
باداما-داتاد——سنسکرت
بدام ———- پنجابی
بادام ———- ہندی
ایمگ ڈیلیا ——– یونانی
آلمنڈ ———- انگریزی
بادامی ———- سندھی
لوز ———– عربی
انڈوڈم ———- تامل
بادام ———– بنگلہ
بادام ———– فارسی
بیدم —————- تیلگو
ایمگ ڈیلس کومیونس —— لاطینی
مقام پیدائش
بحیرہ روم کے ساحلی مقامات، جنوب مغربی ایشیا، اٹلی، سپین، امریکہ، پرتگال، ایران اور مراکش میں بادام بکثرت پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی بادام پیدا ہوتا ہے لیکن اتنا نہیں کہ ملکی ضروریات کو پورا کر سکے۔
تاریخ
بادام پاکستان و ہندوستان کا مشہور میوہ ہے اور لوگ اسے مزے لے لے کر کھاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم قدیم یونانی اور مصری صحیفوں کی ورق گردانی کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس زمانے میں اس کا استعمال صرف بادشاہوں اور امراء تک محدود تھا۔ عوام اس کے ذائہ تک سے محروم تھے اور اسے ایک مقدس میوہ سمجھا جاتا تھا جس کے استعمال کا حق صرف اعلیٰ طبقہ کو ہی حاصل تھا۔ بادام کے تخموں اور تیل سے قدیم اطالوی اور یونانی باشندے ظہور مسیح سے بھی بہت پہلے واقف تھے۔ یونان کے مشہور حکیم ثافرسطس کی تالیفات میں بادام کا اکثر مقامات پر ذکر آیا ہے۔ مصر کے فرعونوں کی اہراموں سے ہزارہا برس پرانی لاشیں نکالی گئی ہیں جو ایک خاص مسالے کے باعث تاحال صحیح سلامت ہیں۔ جب سائنسدانوں نے بہت سے تجربات کے بعد اس مسالہ کے بعض اجزاء کا پتہ چلایا تو اس میں بادام کی گری کا سفوف بھی شامل تھا۔ حال ہی میں ماہرین آثار قدیمہ نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین عراق میں ہزارہا سال سے دبے ہوئے ایک شہر کی کھدائی کررہے تھے کہ اس دوران انہیں ایک چھوٹی سی صندوقچی ملی جو زمانے کی دستبرد سے بالکل محفوظ تھی۔ جب اسے کھولا گیا تو اس میں کچھ بادام رکھے ہوئے تھےجنہیں نہ تو کیڑا لگا تھا اور نہ ہی ان کا چھلکا خراب ہوا تھا۔ایک بادام کو توڑا گیا تواس کی گری بھی ثابت اور محفوظ تھی۔ چکھنے پر بھی اس کے ذائقے میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں کیا گیا البتہ اس کا روغن بالکل خشک ہوچکا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے یہ بادام سات ہزار برس پرانے ہیں۔ چناچہ انہیں عراق کے عجائب گھر میں نمائش کے لئے رکھ دیا گیا ہے۔بادام کا تذکرہ انجیل میں بھی آیا ہے۔ چنانچہ کتاب الاصول میں لفظ لوز موجود ہے اور یہ بادام کا نام ہے۔ بادام کے غنچے یہودی اپنے تہوار کے موقعہ پر اپنے عبادت خانوں میں لے جایا کرتے تھے۔
شاہی درباروں میں بھی بادام کی عظمت کا سکہ چلتا رہا ہے۔ خلیفہ معتصم باللہ نے سپین کے عیسائی حکمران فرڈی نینڈ کو تحفے کے طور پر ایک شطرنج بھیجی جو بادام کی گریوں سے بنائی گئی تھی۔ شہنشاہ اکبر پڑھا لکھا تو نہ تھا لیکن کاروبار حکومت میں اس کا دماغ خوب چلتا تھا۔ اس کی وجہ اکبر نے خود بتائی کہ وہ مسلسل بادام استعمال کرتا رہا ہے۔ برصغیر کے عظیم مفکر جناب شاہ ولی اللہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ روزانہ صبح بادام کے اکیس دانے کھاتے تھے۔ شاہ اسماعیل شہید ، مولانا اسحاق اور شاہ عبدالعزیز بھی بادام کے استعمال کے عادی تھے۔ تذکرہ نویسوں کا بیان ہے کہ یہ حضرات بالعموم اکیس بادام رعزانہ کھایا کرتے تھے۔ دہلی کے آخری صدرالصدور منشی صدرالدین آزردہ جب درس دیتے تھے تو ان کی جیب بادام کی گریوں سے بھری ہوتی تھی۔ اور وہ دوران درس ان سے شوق فرماتے تھے۔ مرزاغالب بھی باداموں کے بڑے شائق تھے اور کھانے کے بعد اکثر بادام کی گریاں چبایا کرتے تھے۔

مولانا حسین احمد مدنی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کوجو دماغی طور پر کمزور ہوتے ہیں ناشتہ میں بادام تجویز کرتے تھے۔ لیکن انہیں ایک خاص طریقہ سے استعمال کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔ کھانےت والے کہ پہلے روز ایک عدد، دوسرے روز 2 عدد، تیسرے روز تین عدد حتیٰ کہ اکتالیسویں روز اکتالیس مغز بادام استعمال کراتے۔ اس کے بعد اسی طرح ایک ایک مغز بادام روزانہ کم کرتے۔ آخرکار ایک عدد مغز بادام پر لوٹ آتے۔
بادام کو مسلمان مٹھائیوں اور حلوؤں کے علاوہ گوشت کی بعض اقسام میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ہنعوؤں کے ہاں بادام کو ایک خاص متبرک حیثیت حاصل ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے جتنے بھی اوتار ہوئے ہیں ان سب کی غذ کا اہم ترین جزو بادام تھے۔ اسی لیے ہندوؤں کے چڑھاوے میں بادام التزام سے موجود ہوتے ہیں۔
بادامی آنکھیں ہمارے شعراء کا بھی محبوب موضوع رہی ہیں اور اکثر اساتذہ نے اس موضوع پر یادگار تلمیحات اور تشبیہات ایجاد کی ہیں۔ غرض یہ کہ بادام کو زمانہ قدیم سے لے کر زمانہ حال تک برابر نوع انسانی کی معاشرتی زندگی میں ایک وقیع مقام حاصل رہا ہے۔
بادام کی اقسام
اگرچہ بادام کی بہت سی قسمیں ہیں مگر عام طور پر دو ہی زیادہ مشہور ہیں۔ بادام شیریں اور بادام تلخ یعنی میٹھا بادام اور کڑوا بادام۔
اردو ———— میٹھا بادام
عربی ———— لوزالحلو
سنسکرت ———- داتاد
فارسی ———– بادام شیریں
پنجابی ———– مٹھا بادام
لاطینی ———– ایمگ ڈیلاڈنسس
انگریزی ——— سویٹ آلمنڈ
ماہیت
بادام کے درخت کی لمبائی کچھ زیادہ نہیں ہوتی۔ اس کا درخت آٹھ دس فٹ لمبا یعنی انور اور بہی کے معمولی درخت کے برابر ہوتا ہے۔
چھال
بادام کے درخت کی چھال سرخی مائل ہوتی ہے۔
پتے
لمبے لمبے، ڈنڈی سے جڑے ہوئے آڑو کے پتوں کی طرح درمیان سے چوڑے اور آگے پیچھے سے پتلے ہوتے ہیں۔ کچے پتوں کا رنگ ہلکا سبز ہوتا ہے۔ مگر پورے پختہ ہوجانے پر یہ سفیدی مائل ہوجاتے ہیں۔ ان کے کنارے باریک دندانہ دار ہوتے ہیں۔ موسم خزاں میں بادام کے پتے گر جاتے ہیں۔
پھول
بادام کے پھول سفید ہوتے ہیں اور ان پر سرخ چھینٹیں نمایاں ہوتی ہیں۔ یہ پھول ٹہنیوں پر ایک ایک اور دو دو کے حساب سے لگتے ہیں۔ ان کے اندر زرد رنگ کے ریزے ہوتے ہیں۔ ہر پھول پھیلا ہوا ہوتا ہے جن پر چوڑی چوڑی پانچ پتیاں ہوتی ہیں۔
پھل
بادام کے پھل کی دو قسمیں ہیں کاغذی اور کاٹھا یا کٹھا بادام
کاغذی یا بستانی بادام تخم ریزی کے تیسرے چوتھے سال بعد پھل لے آتا ہے اور برسوں تک ثمربار رہتا ہے۔ اس کا سب سے اوپر کا چھلکا مخملی یا روئیں دار ہوتا ہے۔ جو باداموں کی باہمی رگڑ سے جھڑ جاتا ہے۔ اس کے نیچے ایک اور چھلکا ہوتا ہے جو کہ پتلا اور موٹا دو قسم کا ہوتا ہے۔ پتلے چھلکے والے بادام کو کاغذی کہتے ہیں اور موٹے چھلکے والے کو کاٹھا’ کٹھا یا ٹھڑا کہتے ہیں۔ یہ بری بادام ہے۔
طبیعت
بادام شیریں ایک درجہ گرم اور ایک درجہ تر ہوتا ہے۔
کیمیائی تجزیہ
شیریں مغز بادام میں حسب ذیل کیمیائی اجزاء ہوتے ہیں۔
روغن ثقیل ——————— 53 فیصد
مواد لحمیہ ———————- 24 فیصد
شکرو گوند ———————- 10 فیصد
معدنی نمکیات ——————– 5 فیصد
نشاستہ ————————- 4 فیصد
حیاتین ———————— 4 فیصد
بادام تلخ
اردو ———————– کڑوا بادام
فارسی ———————- بادام تلخ
سنسکرت ——————– کٹوداتاد
عربی ———————- لوزالمر
بنگلہ ———————- ٹکٹابادام
پنجابی ——————— کوڑا بادام
انگریزی ——————- بٹرآلمنڈ
لاطینی ——————– ایمگ ڈیلا امارا
شناخت
اس کا درخت بھی شیریں بادام کی طرح ہوتا ہے۔ مگر اس کا درخت اور پتے اس سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ رنگ سرخی مائل ہوتا ہے۔ پھول سرخی مائل سفید اور پھل بعینہ بادام شیریں کی طرح مگر کچھ چھوٹا اور عرض میں ذرا چوڑا ہوتا ہے۔ ذائقہ میں بے حد کڑواہٹ ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں