37

پرواز کرنے والا دنیا کا سب سے وزنی پرندہ خود اپنا معالج بھی

اسپینپرندوں کی دنیا حیرت انگیز مظاہر سے بھری ہوئی ہے۔ اب پرواز کرنے والے سب سے بڑے پرندے کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ مرض کی صورت میں مخصوص پودے کھاکر خود کو بیماری سے پاک رکھتا ہے۔

نئی تحقیق کے تحت اسپین میں گریٹ بسٹرڈ پر یہ دلچسپ تحقیق ہوئی ہے۔ اس پرندے کو حُباری بھی کہا جاتا ہے جو تلور اور شترمرغ کی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ ہسپانوی سائنسدانوں نے پرندے کی 619 بیٹ کا جائزہ لیا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ پرندہ دو ایسے پودے اکثر کھاتا ہے جو اپنے اندر ’طفیلیوں کو ختم کرنے‘ (اینٹی پیراسائٹک) کے اثرات رکھتے ہیں۔

یہ پرندہ یورپ، افریقہ اور ایشیا میں پایا جاتا ہے جس کی بقا کو خطرات لاحق ہیں۔ مڈرڈ میں فطری عجائب گھر سے وابستہ سائنسداں، لوئی بوٹسٹا نے بتایا کہ بڑا تلور ایسے پودے کھاتا ہے جس میں طفیلیوں کو ختم کرنے والے مرکبات موجود ہوتے ہیں۔

یہ پرندے مکئی کی پوست، اور پرپل وائپر بگلوس نامی پودے رغبت سے کھاتے ہیں کیونکہ اس پرندے کے جسم میں فنگس، نیماٹوڈ اور دیگر طفیلیئے رغبت سے کھائے جاتے ہیں۔ اس طرح پودے کھاکر پرندہ نہ صرف ان کے زہر سے محفوظ رہتا ہے بلکہ وہ درد اور تکلیف میں بھی افاقہ کرتے ہیں۔

دوسری جانب تلور کی مادہ بھی اس نر کی جانب راغب ہوتی ہے جو تندرست دکھائی دیتا ہو اور یہی وجہ ہے کہ یہ پرندہ بیماریوں کی صورت میں مخصوص پودوں کو کھانا پسند کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں