women prone to alzhimer's disease 39

خواتین مردوں کی نسبت الزائمرز کے مرض میں زیادہ کیوں مبتلا ہوتی ہیں؟

کلِیولینڈ: ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے اس بات کا پتا لگایا ہے کہ خواتین کی مردوں کی بہ نسبت الزائمرز کے مرض میں مبتلا ہونے کی شرح دُگنی کیوں ہوتی ہے۔
امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کلِیو لینڈ کی کیس ویسٹرن یونیورسٹی کے محققین کے مطابق اس نئی تحقیق میں چوہوں اور انسانی دماغ کے ٹِشو میں ایسے اشارے ملے ہیں جو اس فرق کو واضح کرسکتے ہیں۔
تحقیق میں خواتین کے دماغ میں مردوں کے دماغ کی نسبت زیادہ یوبی کوئیٹِن-اسپیسیفک پیپٹیسائیڈ 11(یو ایس پی 11) نامی ایکس-لِنکڈ خامرے(انزائمز) پائے گئے جو ٹاؤ نامی پروٹین بڑی مقدار میں جمع ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ پروٹین الزائمرز کے مرض سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایکس-لنکڈ کا مطلب ان خصوصیات کی جانب اشارہ ہوتا ہے جو ایکس کروموسومز کے جینز سے متاثر ہوتی ہیں۔ خواتین میں دو ایکس کروموسومز ہوتے ہیں جبکہ مردوں میں ایک ایکس اور ایک وائے کروموسومز ہوتے ہین۔
تحقیق کے شریک مصنف ڈیوڈ کینگ کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق دیگر ایکس-لنکڈ عوامل کی شناخت کے لیے طریقہ کار کا تعین کرتی ہے جس سے خواتین میں ٹاؤپیتھی کے امکانات کے اضافے کے متعلق بات کی جاسکے گی۔
ٹاؤپیتھی ایسی اعصابی بیماریاں ہوتی ہیں جوغیر معمولی ٹاؤ پروٹینز کے جمع ہونے سے واقع ہوتی ہیں۔
ڈیوڈ کینگ نے ایک نیوز ریلیز میں کہا کہ یو ایس پی 11 ایک انزائم ہے اور انزائم کو ادویات کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے۔ ہمارا مقصد ایسی دوا کو بنانا ہےجو اس طرح کام کرتے ہوئے خواتین کو الزائمرز کے مرض کے بلند خطرات سے بچا سکے۔
خواتین الزائمرز کے مرض میں زیادہ مبتلا کیوں ہوتی ہیں اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ان کے دماغ میں ٹاؤ پروٹینزکے ذخائر بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں